20 نومبر 2011 - 20:30

سعودی عرب اب امریکا کو اپنی سلامتی کا ضامن نہیں سمجھتا ،سعودی عرب آئندہ امریکا کی بجائے دفاعی خود انحصاری کے ساتھ پاکستان اور چین پر انحصار کرے گا،

ابنا: مشرقی وسطیٰ میں طاقت کا توازن امریکا سے سعودی عرب میں تبدیل ہوگا،حالیہ عرب خطے کے بحران کے ردعمل میں سعودی عرب نے امریکی اثر رسوخ کم کردیا، سعودی عرب آئندہ دس برسوں میں اپنی مسلح افواج کے حجم کو دگنا کردے گا ،سعودی عرب امریکی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کی طرح کا اپنا ورژن تیار کر ے گا۔امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب امریکی اثر ورسوخ کو ختم کرنے کیلئے اپنی فوجی اور اقتصادی طاقت میں اضافہ کرے گا جس کیلئے آئندہ برسوں میں وہ ان پروسیع پیمانے پر اخراجات کرے گا۔ علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کیلئے سعودی عرب آئندہ دس برسوں میں اپنی مسلح افواج کے حجم کو دگنا کردے گا اور حالیہ بحران کی وجہ سے کمزور ممالک کی اقتصادی ترقی پر سالانہ 15ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ ایک غیر سرکاری دستاویز کے مطابق سعودی عرب کی موجودہ فوجی عددی حجم ایک لاکھ 50ہزار میں مزید ایک لاکھ 25ہزار کا اضافہ کیا جائے گا۔نیشنل گارڈ ایک لاکھ سے سو ا لاکھ کردیئے جائیں گے، بحریہ نئے جہاز اور میزائل کی خریداری پر30ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ فضائیہ450سے500تک نئے جہاز لے گی،وزارت داخلہ60ہزار پولیس اور اسپیشل فورسز کا اضافہ کرے گی۔سعودی عرب امریکی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کی طرح کا اپنا ورژن تیار کر ے گا۔سعودی عرب ای اے ڈی ایس سے 72 یوروفایئٹرز اور بوئنگ سے84نئے ایف 15خریدے گا۔سعودی عرب نے مصر کی مدد کے لئے رواں بجٹ میں 4 ارب ڈالر، اردن کے لیے 1.4 ارب ڈالر ، اور آئندہ دہائی میں بحرین اور عمان کے لئے 500 ملین ڈالر سالانہ مختص کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عرب خطے میں اٹھنے والی حالیہ بغاوت’Arab Spring نے تیزی سے مشرقی وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے ،اب امریکا کی جگہ سعودی عرب نے لے لی ۔سعودی عرب نے ردعمل کے طور پر امریکی اثرروسوخ کو کم کیا ہے۔ابھی تک سعودی عرب اورامریکا کے تعلقات کی اپنی اہمیت برقرارہے تاہم سعودی عرب اب امریکا کو اپنی سلامتی کا ضامن نہیں سمجھتا ، اس کے لئے سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے وہ خود پر زیادہ انحصار کرے گا اور اس کے ساتھ اپنے دوست ممالک جس میں ان کافوجی پارٹنر پاکستان اور اپنے سب سے بڑے تیل کے گاہک چین پر انحصار کرے گا۔ ماہرین کے نزدیک سعودی عرب کی پالیسی میں بہت اہم تبدیلی ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب روایتی طور عاجزانہ ، بنیاد پرستوں پر خرچ کر کے امن قائم کرنے اور امریکی فوجی چھتری پر انحصار تھا۔ 
.......

/169